Monday, April 20, 2020

Bundit patana slips

Artist : Sakiyama Takayuk

Material: Stone withsand glaze

Art work: Listening to the waves

          A unique principle of shape is followed up by a pattern, shape is balances in its own sense.
A large twisting vessel with diagonal engrave flow and folds. There is a movement in these waves .
His sandy texture and movements shows the continuity . In most of the work reflects the rhythm,
relentlessnes of the see and its motion.







Artist: Anee Butler

Matrial: Parian porcelain

Art work: Sweeing Machine
         
                                          The putting into levels expert way used to made the machine and impulse for doing from buildings and structure design. The sculptures in comparison technology and making techniques with the fallibility of the hand-made. Different expert way are used in it. like going bad selection of actors, putting into levels, getting together and so on

     




Artist: Corrie Bain

Material: Porcelain

Art work : Spiral Lamelle

                                This vessel being as a simple form. This vessel look like a seed coverd by a thin levels. its textur is very pleasingly hard but readily broken and crispy its look more like an in very small grains and staylized form. top is look unglazed to let see the natural degree of porcelain



Sunday, April 5, 2020

Quarantine life





آرٹسٹ اور قرنطینہ
 کرونا وائرس اور ہم ناچیز


نام کاغزوں پر تو ماہم ناز ہے ، مگر کچھ محبت کرنے والے دوست اور کچھ سانپ بھی " ماہی " کہ کر بلاتے ہیں
سرامک ڈیزائن میں قسمت آزمائی ہو رہی ہے ، انگلش لٹریچر میں ہوتے ، ضرور انگریزی ہانپتے ، کیا ہے کہ فیلنگ آتی ہے

اپنی زبان میں تحریر کے بعد اپنی رائے ضرور دیجئے گا ،

بے شک ، خوف اور بے یقینی کا عالم ہے ، سنا کرتے تھے موت کا خوف انسان میں نفسا نفسی پیدا کرتا ہے ہر بشر روح خوف
میں مبتال ، میڈیا سے آتی سنسنی ، ہر جا ، موت کی خبریں ، اور غریب کے گھر ناچتی بھوک ، امیر کی جمع دولت اسکی

پریشانی –
انسانیت کی جگہ صرف ہنر دیا جانا ، وہ نعرہ " گھر نہیں بیٹھونگی "

وہ ہوتا تماشہ " میرا جسم میری مرضی "

وہ وقت جب "ننھے پھول مسلے جاتے رہے "

جب ہر جرم ہوتا رہا مگر ڈر ؟ ڈر ؟

ڈر آج ہی محسوس ہوا ، سمجھ میں آیا کیوں ؟

جی ہاں ، آج مرنے والے میں شائد میں ہوں ،

آج جس کا بھائی ، باپ ، ماں ، بیٹا ، بیٹی لٹے گا ، وہ میں ہوں –

چلیے ، اپنی آپ بیتی پر آتے ہیں ، ورنہ لکھنا پڑے گا ، سوال اٹھانا پرے گا ، کہ ' لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے "
کتنی لمبی شام ہے یہ –

شائد اس لیے کہ شائد ہم عرصہ دراز سے سب سے ملتے رہے سوائے آپنے ، آج خود کو دیکھا ، ملے ، سلام دعا ہوئی ، آچھا لگا –

وہ جون صاحب کہتے تھے ،

مجھ سے ملنے کو آپ آئے ہیں

بیٹھیے میں بلا  کرلاتا ہوں

آج پتا  چلا کہ ہم اکثر وہاں رہتے ہیں جہاں ہم نہیں رہتے –
آج خود سے کلام  ہوا ، پوچھا کہ دو رستے سامنے ہیں ایک ڈر ہے ، دوسرا لالچ –
میں لکھ دوں انسان کی سوچ انہی دونوں پہلووں پر ہے ڈر یا لالچ  اسے کسی چیز کی طرف مائل کر سکتا ہے –
جنت کی  لالچ ، اور دوزخ کا خوف ،

میں خود کو ولی ، پیر ، بہت اونچا انسان نہیں کہتی ، مگر صبح اس نتیجے پر پہنچی کہ ،
اللہ سے ڈر لو ، یا کرونا سے –

سر جھکانہ ہے اب کدھر ؟ اب یہاں سب پڑھنے والے کہیں گے سب اللہ سے ہی رڈرتے ہیں ،

جی بلکل ، مگر علم بنا عمل ، زہر ہے

خیر حقیقی زندگی میں سب' نہیں ڈرتے –

خیر یہ کلام فجر سے پہلے ہوا ، اکیلا ہونا ، خاص کر آرٹسٹ کے لیے زیادہ خوفناک ہے ، اور پھر وائرس کا علم بھی نہ ہو ،

میڈیا سے آتا خوف سارا دن ٹی وی ، یہ سب بھی ساتھ ہی تھا

خود کو جھنجوڑا ، نماز ادا کی ، قرآن کریم پڑھا ، اور پھر بیٹھے سوچنے ، *بڑین سٹورمنگ* یعنی دماغ پر زور ، وہ یاد آیا ،
خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کر دے ، وہ –

اصل میں ہم سے کہی تعلیم نظام یاد رہے یہ سب نہیں جو کاٹھے انگریز والا  ہے اسے کہا ، ہم سے چھین لی تھی –
آج جب سوچنا شروع کیا ، تو آحساس ہوا ، کرونا آیک موت کا دکھ  لایا ، ہاں ، آپ نے میں نے سب نے مرنا تو ہے ،


مگر مثبت کیا تھا ؟

صبح ہو رہی ہے ، ماں جی ناشتہ دیتی ہیں ، سب ہنستے ہیں ، جو ہے خوش ہو کہ کھا رہے ہیں ،

ہم جدت اور پرانے خیالت کے درمیان پھنسے لوگ ، موبائل کو زیادہ اور ماں باپ سے کم ملتے رہے ، ہاسٹلٹ ہوں ، تو شائد
زیادہ احساس ہو ، کیا ہوتا ہے گھر ، زندگی کیا ہے ، انسان خود چاہے تو حاالت جو بھی ہو خوش رہ لیتا ہے ، اور جسے نہیں
رہنا اس نے نہیں رہنا –

تھورا کام کر لیا ، پینٹنگ کی ، اللہ اللہ  کیا ، اور کسی کی ایک بات مانی –

سات سے گیارہ تک ٹی وی نہیں دیکھنا – لے جی زندگی گلزار ہے ، وقت جیسا بھی ہوں

حاالت برے ہوں ، درد ہو یا موت کا خوف ، کوئی پیدا ہوں یا مر جائے ، لاش ہو شامیانے لگے ہوں ، محبت ہو نفرت ، دوست ہوں
یا سانپ ،
 گھڑی چلتی ہے ، دن چوبیس گھنٹے کا ہی ہے ، درد سے موت تک ہر چیز کی دعا ،

وقت ، اور صرف زندگی میں اب ماضی چوڑیے ، حال میں رہیے ، گھر میں رہیے خود سے اور اپنے گھر والوں سے محبت یہی
ہے اس وقت ، اور وہ وقت دور نہین جب یہ عزاب جو شائد آغاز میں لکھے ہمارے معاشرے کے جرم کا نتیجہ ہو جلد ٹل جائے گا،

حضرت یونس علیہ السلام  کی قوم کو معافی مل گئی ہمیں بھی ملے گی جو بھی گناہ تھے نادم ہو کے دیکھ لیں کیونکہ آیک جگہ
جھکنا ہے ، اللہ  کے سامنے یا انسانوں کے

اوراللہ امید نہیں یقین ہے

یہ وقت بھی گزر جائے گا –

اللہ  سب پر اپنی رحمت فرمائے ،







Thursday, April 2, 2020

پیشِ خدمت ہے گز پاُوں۔۔

یہ ایک ایسا بگلا ہے جو عموماٴ پانی میں ایک ٹانگ پہ کھڑا پایا جاتا ہے۔
اور اس کی ٹانگیں لمبی لمبی ھوتی ہیں۔۔
 مگر اس کو آپ چھپڑی بگلے سے کنفیوژ نہ کریں۔۔


بلکہ اس کو چپری بنگلہ سے بھی کنفیوژ نہ کریں۔
کسی پے نان موتیکسی موٹی
عاحسفگفصف پاپ کسی اور کی تو نھیں mkkjkjkjkضلجلجل کجکجکجکج نمنممبم کسی کی نیک ممبّںم 




Wednesday, January 15, 2020

Drawing.8

Safety switch
(switch box)
This is a specific diagram of electronic switch use for the safety of childrens.
*A safety switch box , fitted in the wall.

*Its size in up side & right side is (3.5 inch)
* Down & left side is (2.5 inch)
* when we fit it in the wall , the inner part of the switch will be in the wall and  1 inch  of the switch box will be out side  the wall visible.
*The charging socket will be the bracket hidden in the box so when we plug off  the extension the socket becomes  un reachable  for the childrens So this is the perfect way  to protect childrens from electronic shock  , current .

Features

*The main ides of the safety switch board is that the charging socket is available in the box not hidden but covered.
*We  fitted the socket  inch below to make it safe for children from electronic current so they can not reach it easily from any electronic device.







Design Thinking (DT) Q; What do you think the world become after covid 19 is over? Explain in one paragraph. I think we can understand...